جمعرات، 21 ستمبر، 2017

الفت کشتواڑی

1 تبصرے

آج اُلفت صاحب ہم میں نہیں ہیں۔طویل علالت کے بعد امروز ۲۷ ؍ نومبر بروز بدھ سال ۲۰۱۷ ؁ء بوقتِ تقریباً سَوا گیارہ بجے دِن کے اِس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ( اِنَّا للَّہ وَاِنَّااِلیہ رَاَجعُون) مرحوم کی علمی،ادبی ،روحانی وَ سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔اُلفتؔ صاحب ہم میں نہیں ہیں لیکن اُن کی یاد ہمارے دِلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔اُنکے درجات بُلند کرے۔اُن کے پسماندگان ،متعلقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔آمین





سرخی شامل کریں
سرخی شامل کریں

 رَٹیتھ اُوش دامنس کیتھ بُلبلن ہُند گُل چھُ لَلہِ ناوُن
قدم سُوت ترأو اے بادِ صبا مُختک ڈَلن مشکل
 الفت ؔ کشمیری اب ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی شرین شخصیت اورزندگی کی رعنائیوں سے معمور شعر وکلام ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔ درجہ بالا شعر اس نازک خیال شاعر کا ہے جس نے زعفران زاروں کی پُر مہک فضائوں، چناب کی پُر مست لہروں، علماء، حکماء، شعراء ، ولیوں اور ریشیوں کی وادی ٔ کشتواڑ میں خواجہ منور جو بٹ کے گھر ۲۲ پُوہ ۱۹۷۳بکرمی کو جنم لیا۔ غلام محمد بٹ صاحب کے اسم گرامی سے موسوم ہیں ، الفتؔ کشتواڑی نصف صدی کے نام سے اپنی شاعری کے مضراب سے احساس کی نازک تاروں کو چھیڑتے آئے ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ فریدیہ ہائی سکول کشتواڑ( جو اُن دنوںمڈل سکول تھا) سے حاصل کی۔ ابھی چھٹی جماعت میں ہی زیر تعلیم تھے کہ حالات کا ایک گراں پتھر ان کے اُوپر گر پڑا جس کا وزن لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی گیا۔ ان کے خاندان میں یکے بعد دیگرے چار پانچ بزرگ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ خانگی پریشانیوں میں اضافہ ہوا تو غلام محمد بٹ صاحب اپنے والد محترم سے درزی کا کام سیکھنے لگے۔ ان کے والد اُس دور میں کشتواڑ کے مانے ہوئے درزی تھے۔ حساس طبیعت پانے کی وجہ سے فکر و نظر کی قندیلیں روشن ہونے لگیں۔ اسی فکر و احساس کے نور نے غلام محمد بٹ صاحب کو اُلفتؔ کشتواڑی بنا دیا۔ الفتؔصاحب کے قلم نے سب سے پہلے چند اردو افسانے لکھے، اس کے بعد شاعری کی طرف طبیعت مائل ہوئی اور پہلا شعر اُن کی زبان سے یوں نکلا   ؎
ہوا اشکوں سے دامن اپنا تر ہے
یہ خونِ دل بھی ہے خونِ جگر ہے
یہ پہلی غزل سات اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد فکر و احساس کی شمعیں مزید فروازاں ہونے لگیں۔ ان غزلوں میں رومانیت اور روائیت کا رنگ نمایاں ہے۔ ہجر و وصال کے قصے ہیں، دوسری غزل کا یہ شعر دیکھیں   ؎
بے اثر نالے میرے اُن کی نظر کے سامنے
حالِ دل اپنا سنانا بے مہر کے سامنے
 سال ۱۹۳۵ ء میں کشتواڑ میں ’’ بزمِ ادب‘‘ کی بنیاد مرحوم عشرتؔ کاشمیری صاحب نے ڈالی۔ اس بزم کے سیکریٹری عشرت کاشمیری صاحب تھے اور صدر مرحوم غلام حیدر گگڑو قیصرؔ صاحب نائب صدر مرحوم کشمیری لال روپؔ صاحب اور مرحوم نشاط ؔ کشتواڑی صاحب جوائنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر فائز تھے۔ بزمِ ادب کی محفلیں اکثر اسلامیہ سکول میں ہوا کرتی تھیں۔ اِن محفلوں میں اکثر کسی اُستاد کی غزل سے طرحی مصرعہ دیا جاتا اور شعراء سے کہا جاتا کہ اِس طرح پر طبع آزمائی کریں۔ عشرت کاشمیری صاحب نے ایک طرح مصرعہ دیا جو کہ مرحوم رساجاودانیؔ صاحب کی ایک غزل کا مصرعہ تھا۔’’ کیا نام سکندر رکھنے سے جب بخت سکندر ہو نہ سکا‘‘۔ اِس پر الفتؔ صاحب نے یوں شعر کہے۔
اے اشک چھلک کر آنکھوں سے بہہ کر تو سمندر ہو نہ سکا
تو نوکِ پلک پر آکر بھی اے کاش کہ گوہر ہو نہ سکا
اِن چارہ گروں سے کہہ دے کوئی گرداب سے کشتی دور نہیں
جو موجِ حوادث سے نکلوں میں ایسا شناور ہو نہ سکا
اسی بزم میں ایک اور طرح پر کہے گئے یہ شعر دیکھٔے۔ طرح مصرعہ یوں تھا:’’ کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے‘‘
الفتؔ  صاحب   ؎ 
بے نقاب آج کوئی ماہِ لقا ہوتا ہے
بزمِ جاناں میں کوئی فتنہ بپا ہوتا ہے
اپنے دل کو ہی نہ کیوں سجدہ کروں میں زاہد
جب کہ خود دل میں خدا جلوہ نما ہوتا ہے
چونکہ کشتواڑ میں اردو کے علاوہ کشمیر ی زبان و ادب تہذیب و ثقافت کا گہرا رنگ ہے، عوام کی زبان بھی کشمیری ہے۔ الفتؔ صاحب نے بھی کشمیری زبان میں لکھ کر اپنی مادری زبان کی خدمت کا حق ادا کیا۔ کشمیری زبان کی شاعری میں رُسل میر، عبد الاحد آزاد، مہجورؔ اور اُن کے ساتھ رسا جاودانی ؔ کی شاعری کافی متاثر ہیں۔ اُن دنوں کشمیر سے مہجورؔ کی آواز کشتواڑ کے زعفران زاروں میں بھی گونجنے لگی تھی۔ ادھر رسا جاودانی کی کشمیر ی شاعری نے لوگوں کے دلوں کو جیت لیا تھا۔ الفتؔ صاحب نے جب پہلی غزل کشمیر زبان میں کہی تو وہ چند ہی دنوں میں قصبۂ کشتواڑ کی حدود فلانگتی ہوئی تمام ضلع میں پھیل گئی۔ اُسی غزل کے یہ شعر آپ بھی سن لیجئے:
چھُو کوتاہ کروٹھ آسن یار سندیا رس ژلُن مشکل
یتھِس دیدس بجز دیدارِ دلبر چھُم بلُن مشکل
سَنا کَئم لو ینم تیزِ نظر زخمی جگر کُورنم
تڑب ائے طائرِ دل چون چھم سنبلن مشکل
دوسری غزل کا یہ شعر دیکھئے
میہ گویز کال تس پرارن بُومورس بے وفا یارن
ستم گُر نم ستمگا رن بُو مورس بے وفا یارن
جب مندر جہ بالا غزل کے گلوکاروں نے اپنی مخصوص دُھن چلنت پر گائی تو لوگوں میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ غزل کے بول عوام میں زبان زدِ عام ہو گئے۔ بچے بچے کی زبان پر یہی بول تھے۔’ بُو مورس بے وفا یارن‘اِ س کے بعد غزلوں اور نظموں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ اُلفتؔ صاحب کے کلام کا زیادہ تر حصہ کشمیری زبان میں ہے جس میں غزل ، نظم، قطعہ اور مرثیہ شامل ہے۔ اِن کے کلام میں سادگی، روانی اور آمد پائی جاتی ہے۔ اِن کے کلام پر فارسی زبان کا اثر ہے لیکن فارسی کے الفاظ اِس طرح استعمال کئے گئے ہیں کہ وہ کشمیری زبان کے لفظ معلوم ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے رومانی، صوفیانہ اور سماجی موضوعات پر انتہائی کامیابی کے ساتھ شعر کہے ہیں۔اِن کا کلام چند چھوٹی بحروں کے علاوہ زیادہ تر طویل بحروں میں ہے۔ گیارہ سے زیادہ شعروں پر مشتمل اِن کی غزلیں ہیں۔ 
اُلفتؔ صاحب کی شادی ایک سلیقہ شعار خاتون ساجہ بیگم سے ہوئی تھی۔ یہ ایک کامیاب شادی رہی۔ ساجہ بیگم کے بطن سے دو لڑکے تولد ہوئے۔ ایک صاحبزادہ ڈاکٹر غلام رسول اور دوسرا ڈی ایس پی غلام قادر صاحب ہیں۔ ساجہ بیگم کچھ عرصہ کے بعد بیمار ہو گئی اور بالآخر یہ بیماری اُس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ رفیقۂ حیات کی جدائی میں اُلفتؔ صاحب حزن و یاس کی ایک کیفیت میں مبتلا ہوئے۔ زمانے کے تندیاںا ور موسموں کے تغیرات اِس میں موجزن بے پناہ حسرت و یاس کے جذبات کا احساس ہوتا ہے۔ اُلفتؔ صاحب کے کلام کے مطالعہ سے آتشِ رفتہ کا سراغ بھی ملتا ہے۔ ماضی کے خوش رنگ لمحات کی تصویریں بھی نظر آتی ہیں۔ ماضی قریب کے درد و کسک کی چنگاریوں کی جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ حال میں جھلسا دینے والے شعلوں کی لپک بھی محسوس ہوتی ہے۔ بے شمار آرزئوں اور تمنائوں کے جنازوں کا بوجھ اُس کے ناتواں کندھوں پر رکھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اِن کے کلام میں خوش گوار یادوں کے حسین صنم خانے بھی آباد ہیں اور حسرت و یاس کی قبریں بھی۔ رفیقۂ حیات کی جدائی نے ان کی زندگی کے تمام رنگ اِن سے چھین لیے تھے۔ وہ کہتے ہیں    ؎
سنگ راون چھُو اکثر رنگ راون
رنگہِ رنگہِ ما دل گوم چور مدنو
اُلفتؔ صاحب کے زہر غم زندگی کو دیکھ کر احباب اور دوستوں نے اُنھیں دوسری شادی کرنے پر مجبور کیا۔ بالآخر احباب و دوست بہت جدوجہد کے بعد اُلفتؔ صاحب کو نکاحِ ثانی کرنے پر راضی کر سکے۔ دوسری شادی شریکِ سفر کے بطن سے تین لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہوئیں۔ اُلفتؔ صاحب سے کشتواڑ اور خطۂ چناب کے بہت سارے نامور شاعر وقتاً فوقتاً اپنا کلام لے کر اصلاح لیتے رہے۔ انھوں نے لکھنے والوں کی خلوصِ دل سے حوصلہ افزائی کی۔اُلفتؔ صاحب نے بہت سے گم نام لکھنے والوں کا حوصلہ بڑھا کر اور اُن کے کلام کی اصلاح کرکے اُنھیں ادب کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ یہ اُلفتؔصاحب کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔
آج اُلفت صاحب ہم  میں نہیں ہیں۔طویل علالت کے بعد ۲۷ ؍ نومبر بروز بدھ سال ۲۰۱۷ء بوقت تقریباً سوا گیارہ بجے دن کے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ (  اِنَّا للَّہ  وَاِنَّااِلیہ رَاَجعُون)۔ مرحوم کی علمی،ادبی ،روحانی وَ سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔اُلفتؔ صاحب ہم میں نہیں ہیں لیکن اُن کی یاد ہمارے دِلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔اُن کے درجات بُلند کرے۔اُن کے پسماندگان ،متعلقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔آمین
اُلفتؔ صاحب کور دربارِفریدیہ ؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت تھی۔ صبح شام دربار حاضری دینا اُن کا معمول تھا ۔ان کی شخصیت کو کشمیری تہذیب و تمدن کی خصوصیات اور ذہن و مزاج کی گوناگوں خوبیوں کے دلکش امتزاج نے بڑا مؤثر اور پُر کشش بنا دیا ہے۔ بقولِ عوام الناس، ’’ وہ کشتواڑ کے غنی ؔ کشمیری ہیں، اِن کی شخصیت اچھے شعر کی طرح ہر دفعہ حسن و لطافت کا ایک نیا تاثر مرتب کرتی ہے اور ایک بلند معیاری دلکش غزل کی طرح نئی نئی کیفیات سے روشناس کراتی اور اثر انگیز ی کا جادو جگاتی ہے۔ اس طرح اُلفتؔ صاحب کی کتاب زندگی کا ہر ورق کسی قابلِ قدر شعری مجموعہ کی طرح نئے نئے احساسات، نئے نئے تجربات ،نئی نئی کفیات سے مزین اور نئے نئے پیچ و خم سے لبریز ہے۔ اِن کا بچپن پریشانیوں اور مصیبتوں میں گزرا۔ جوانی ، عشق و محبت کی سرمستیوں کے ساتھ غمِ دوراں کی تلخیوں میں گزاری اور بڑھاپے میں طبیعت پر تصوف کا رنگ غالب آگیا۔ چونکہ مجاز کی دہلیز عبور کر کے حقیقت کی جستجو ہر انسان میں ہوتی ہے۔ سو اُلفتؔ صاحب نے یہاں بھی پہل کر دی ہے۔ وہ زمانے کی نرم گرم لہروں پر گامزن رہے۔ وہ کہتے ہیں   ؎؎   چھُو کھ بہتھ کولہِ بٹھِس پیٹھ گندن سکہِ فلن، چانی کین لعو مختُو گوہر گو یہوئی
اَژ تہِ صدرس اندر ، چیر صد فس جگر ، نہ تہِ کنارن نظر کیا ذلالت چھِ نا
وطنِ عزیز سے محبت اِن کے کلام میں جا بجا نظر آتی ہے۔ ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہی ، غریبوں ، فاقہ کشوں اور مزدوروں کی ترجمانی، عریانی، ہوس پرستی اور بے حیائی کو دیکھ کر اِن کا قلم چیخ اُٹھتا ہے    ؎
ٹھاٹھ ماراں سمندرو چھم ہو سکئی، عشق  وچھمس بٹھیس پیٹھ مہِ ماتم کرآں
حسن عریاں و چھم غرتچ نائو پیٹھ، موج حیچ پریشاں قباحت چھنا
اُلفتؔ صاحب کی شہرت اِ ن کی غزلوں نظموں کے علاوہ مناقب سے بھی بہت ہوئی۔ انھوں نے سرورِ کونین آنحضرت ﷺ کی خدمت میںنذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے بہت ہی مقبول نعتِ پاک لکھے ہیں، جن کو عوامی طور پر بہت شہرت مل چکی ہے۔ کئی مقامات پر شہدائے کربلا ؓسے متعلق بھی والہانہ عقیدت کے اشارے ملتے ہیں۔ شاہ فرید الدین بغدادی ؒ سے والہانہ عقیدت کے طور پر منقبت قابل ذکر ہیں، جس کو ہر وقت دربارِ فریدیہؒ اور دربارِ اسراریہؒ میں عقیدت اور نیاز مندی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اُلفتؔ صاحب کا کلام اکثر و بیشتر مختلف رسائل و جرائد میں شایع ہوتا رہتا ہے۔ خطۂ چناب خاص کر ضلع کشتواڑ کے مشاعروں کے روحِ رواں اُلفتؔ صاحب ہی ہوا کرتے تھے مگر اُلفت صاحب کے کلام کو کتابی صورت دی گئی ہے جو ’’ کلیاتِ الفتؔ‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آچکا ہے۔ 
اُلفتؔ صاحب کی ادبی خدمات کے لیے ’’ انجمن ِخدام ادب راجوری ‘‘ نے ۱۹۹۵ء میں انجمن کی طرف سے اعزاز سے نوازا ہے۔ سال ۱۹۹۷ء میں انجمن ترقی ادب کشتواڑ نے اُلفتؔ صاحب کی ادبی خدمت کے لیے ادبی اعزاز سے نوا ز ا۔ جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی نے مورخہ ۷۲؍ اپریل سال ۲۰۱۳ء میں ادبی اعزاز سے سرفراز کیا۔رسا جاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی جموں و کشمیر نے بھی اسناد سے نوازا۔انجمن ویلفیرسوسائٹی ڈوڈہ نے اُن کی خدامات کو سراہتے ہوئے عزاز سے نوازا ہے۔

تحریر۔۔۔الطاف ؔ کشتواڑی



1 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اردو ہے جس کا نام.
سُخن ورانِ کشتواڑ ..!

سُخن ورانِ کشتواڑ۔مرحومین ..!

سُخن ورانِ کشتواڑ۔مرحومین ..!

سُخن ورانِ کشتواڑ۔مرحومین ..!


اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

اُردو کے اُفق ..!

..!

..!

.........................................!