کشمیری زبان میں ادب کی تخلیق
کا ا?غاز باقاعدہ طور پر تحقیق کے مطابق آج سے چھ سو سال قبل اْس وقت ہوتاہے جب انگلستان
میں انگریزی کے اوّلین شاعر چاسر نے s کو نظم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہاں سرزمین کشمیر
میں شیوازم اور روحانیت کی مبلغہ لل عارفہ کشمیری کی پہلی فلسفہ دان شاعرہ
کی حیثیت میں اْبھررہی تھیں ۔ اسے زمانے کی ستم ظریفی ہی کہاجاسکتاہے کہ انگریزی
اور کشمیری دونوں ہم عصر زبانیں ہونے کے باوجود اول الذکر جہاں ا?ج
سارے جہاں میں جانی پہچانی ہے وہاں کشمیری زبان وادی کشمیر
کی چار دیواری میں محبوس ہوکے رہ گئی ہے۔ حالاں کہ ایک مشہور مستشرق
جے ہنٹن نو لزنے اس زبان کی لوک کہانیاں مرتب کرتے وقت کہا تھاکہ ''غالباً
دنیا کی کسی بھی زبان میں اس اعلیٰ پایہ کا لوک ادب موجود نہیں ہوگا
جس قدر یہ کشمیری زبان میں پایا جاتاہے ''۔
چودھویں صدی عیسوی کی ابتدائ
میں لل عارفہ کی پیدائش کے وقت کشمیر میں تقریباً چھ سوسالہ شیوازم اور
تانترک فلسفہ دم تو ڑ رہا تھا اور اس کی جگہ مقامی فکر و ذہن کو اسلام کے بلند وبالا
اصولوں اور عالیشان انسانی تصورات نے اپنی روشنی سے منور کرنا شروع کیا تھا۔
کشمیر کے افکار واذہان میں ایک حیات بخش تبدیلی لانے کا یہ عمل شاہ ہمدان حضرت
میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کے وسط ایشیائ سے کشمیر تشریف لانے اور
ان کی طرف سے یہاں اسلام کی تبلیغ و تشہیر کا سلسلہ شروع کرنے سے سالہاسال
تک جاری رہا۔
لل عارفہ کے محسوسات کو بھی روایتی
شیوازم اور ترقی پسند اسلام کے امتزاج نے ایک نئے شعور اور طرز فکر کی شکل میں متاثر
کیا او راس طرح اْن کا کلام جذبات اور مذہبی خیالات کے مثبت پہلوئوں کا حامل
ہوکر انسانیت اور وحدانیت کے ا?ہنگ سے روشناس ہوگیا۔
لل کے واکھوں میں جن شاعرانہ
نزاکتوں اور لطافتوں کا شاندار مظاہرہ ہوا ہے ان کے پیش نظر یہ کہنا
کبھی کبھی مشکل ہوتاہے کہ وہ کشمیری زبان کی اوّلین شاعرہ ہوسکتی ہیں ۔ہمارے ایک
مشہور شاعر اور مورخ عبدالاحدا?زاد? نے اپنی تصنیف ''کشمیری زبان اور شاعری'' میں
بھی یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ''للہ? عارفہ کا دور کشمیری ادب کے کسی ایسے
ترقی یافتہ دور کا ایک باب ہوسکتاہے جس کے خدوخال زمانے کے حادثات نے مٹا دیئے
ہوں ''۔ ا?زاد? کا یہ عندیہ واقعی ادب کے طالب علم کو دعوت فکر اور ترغیب تحقیق
دیتاہے۔ لل عارفہ کی ذاتی زندگی دنیاوی ا?لائشوں اور لذتوں سے مبرا فنافی
اللہ کے عالم میں گذری ہے۔ان کی شاعری کے وجدانی انداز اور الٰہیاتی تکلم کے
پیش نظر کشمیر میں مسلمانوں اور ہندوئوں میں وہ برابر مقبول
ومشہورہیں اوراسی مناسبت سے مسلمان انہیں لل عارفہ یا کاملہ اور ہندو
للی ایشوری کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
لل عارفہ کا جوبھی کلام چند مغربی
محققین اور مستشرقین کو دستیاب ہوسکا اْسے جارج گریرسن اور ڈرڈ ٹمپل نے انگریزی میں
منتقل کیا لیکن اْردو میں لل کے کلام کا بہترین ترجمہ پروفیسر نند لال
طالب نے کیا جس کی چند مثالیں یوں ہیں :
آسان تھا بادلوں کا ہٹانا میرے
لئے
ممکن ہے میں نکالتی دیرا سے سارا
ا?ب
بیمار خستہ حال کا کرسکتی میں علاج
لیکن میں بیوقوف کو قائل نہ کر
سکی ١
ــــــــــــــــــــــ
دم میں جمتی شبنم دیکھی دم میں
دیکھا پڑتا پالا
دم میں دیکھی رات اندھیری دم میں
دیکھا دن کا اْجالا
تھی میں ایک کم سن سی دختر دم
میں جوانی کو جا پہنچی
چلتی پھرتی تھی میں اب تک ہو گئی
جل کر راکھ کی ڈھیر
٭٭٭
ترک کر یہ ماسوا
ترک کر حرص و ہوا
نور ہی میں ڈوب جا
دیکھ اس کے نور کو
وہ بہت ہے بے بہا
وہ بہت نایاب ہے
ڈھونڈتا ہے دور کیا
ہے وہ تیرے ہی قریب
وہ خلا ہے یا ملا
کچھ نہیں اْس کے سوا
للہ? عارفہ کے ہم عصر اور اسلامی
تصوف کے سب سے بڑی کشمیری نغمہ گو شیخ نور الدین نورانی شیخ العالم رحمتہ اللہ
علیہ شاعری کی زبان میں اس مشن کی دوسری کڑی ثابت ہوئے جسے لل نے ہاتھ میں
لیا تھا۔اسی طرح سے لل اور شیخ کا دور کشمیری شیوازم اور صوفی ازم کے
فلسفہ کو بیان شعری دینے اور اسے ایک ہمہ جہت اور ہمہ گیر نصب العین بنانے میں زبردست
تاریخی کردار کا حامل ہے
روایت ہے کہ جب شیخ نورالدین? عالم
ہست وبود میں ا?ئے تو انہوں نے اپنی والدہ کا دودھ پینے سے انکارکیا
لیکن لل عارفہ نے اْن کے کان میں یہ کہا :''زینہ مند چھو کھ نہ تہ چینہ کو
وہ چھک? مند چھان؟'' (تمہیں پیدا ہونے سے یعنی جینے سے شرم نہیں ا?ئی
تو پینے سے کیوں شرماتاہے ؟) تو شیخ رحم? اللہ نے غٹاغٹ سارا دودھ پی لیا۔
اس کے بعد لل خود بھی کبھی کبھی انہیں اپنا دودھ پلایا کرتی تھیں ۔
شیخ العالم? نے ایک جگہ اپنے کلام
میں لل عارفہ کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتاہے کہ ان کی
شعوری نشو ونما اور ذہنی ارتقائ پر لل کے فلسفہ کا گہرا اثر رہاہے۔
لل عارفہ کے کلام کو واکھہ
کہاجاتاہے جو ان چار بیتی چھوٹی چھوٹی منظومات پر مشتمل ہے جن کا دوسرا اور
چوتھامصرعہ ایک ہی قافیہ رکھتے ہیں ۔شیخ نورالدین ? کی شاعری کو مقامی زبان میں شر
کو یا اشلوک کانام دیا گیا ہے اگرچہ ان دونوں سخن وروں کا کلام اپنے
اسلوب ،ہیت اور موضوع کے لحاظ سے کم و بیش ایک ہی فلسفہ حیات پیش کرتاہے۔شیخ العالم?
کے یہ اشلوک پڑھ کر گمان ہوتاہے کہ یہ لل کا بھی کلام ہوسکتاہے :
کچھ تو وہ ہیں جن کو ا?ئی غیب
سے تیری ندا
اور کچھ وہ ہیں کہ ہم ا?غوش دریا
ہوگئے
پی کے مئے ا?نکھیں کسی کی جم گئی
ہیں سوئے بام
اور کسی کی پختہ فصلیں کھا گئی
ہیں ٹڈیاں
ll
عہد جوانی میں جی بھر کے پاپ کمائے
اور بڑھاپے میں آکر ریشی کہلائے
یہ تسبیح تمہارے ہاتھ میں ناگن
ہے
اور نماز تمہاری بھلا کس کھاتے جائے
ll
میرا جیون میری جوانی جیسے پھول
انار کا ہو
میری جوانی کب چاہے گی ایندھن اس
انکار کا ہو
میرے دست وبازو اپنے کئے کا پھل جب
پائیں گے
کیا اْس وقت کروں کیا حاصل میری
چیخ وپکار کا ہے
شیخ نورالدین کا تعلق مسلک ریشیان
سے تھا اور انہوں نے کشمیر میں ریشی مت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے کلام
میں جو فلسفہ پیش ہواہے اس کے مطابق انسان کی جدوجہد حیات کی معراج اْس وجود
سے ہمکنارہونا ہے جسے حْسن مطلق یا Eternal
Truth کہاجاتاہے۔
شیخ العالم? نے اپنی سادہ زندگی
گذارکرپاکی ? نفس، خدا پرستی اور خود ا?گاہی کا وہ مقام ارفع حاصل کیا کہ جب ان
کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں بادشاہِ وقت سلطان زین العابدین بڈشاہ نے
بھی شرکت کی۔
للّ?ہ عارفہ اور شیخ العالم کے ڈیڑھ
سو سال بعد تک کشمیری ادب کے نقوش مقامی افراتفری اور انقلابات کی دھند میں چھپے
رہے مگر سولہویں صدی عیسوی کے وسط میں وادی کشمیر ایک بار پھر حبہ خاتون
کے رسیلے نغموں سے گونجنے لگی۔
حبہ خاتون نے کشمیر کے دارالحکومت
سری نگر کے مشرق میں ایک نواحی گائوں پانپور میں جنم لیا جو زعفران
کی کاشت کے لئے دنیا بھر میں مشہورہے۔ حبہ خاتون کا اصلی نام زْون یعنی چاند
تھا اور روز جب وہ ایک زعفران زار میں اپنی ناکام ازدواجی زندگی کی صعوبتوں
او رکلفتوں کا رونا رو رہی تھی توسلطانِ کشمیر یوسف شاہ چک کا وہاں سے
گذرہوا۔ یوسف شاہ نے حبہ کے حسن اور اس کی پْرسوز ا?واز سے متاثر ہوکر انہیں ان
کے شوہر عزیز لون سے طلاق دلواکر اپنے قصر شاہی میں داخل کرلیا او ردربار یوسفی
میں زون حبہ خاتون بن گئیں ۔
یوسف شاہ نے 1579ئ میں تخت
نشین ہونے کے بعد حبہ خاتون کو اپنی ملکہ کا درجہ دے دیا۔ یہ بادشاہ خود بھی شعر
وموسیقی کا دلدادہ تھا۔ شاہی دربار میں حبہ ایک الہڑ اور جاہل دیہاتی گھرانے
کے خشک اور بے جان ماحول سے نکل کر سخن گوئی اور نغمہ گری کی حسین دنیا میں ا?باد
ہوگئیں ۔کہتے ہیں کہ حبہ خاتون نے انہیں دنوں کشمیری کلاسیکی
موسیقی میں ایک اہم راگ '' راست کشمیری'' کو ایجاد کیا۔
یوسف شاہ چک کے دورِ حکومت میں مغل
بادشاہ اکبر کی للچائی نگاہیں وادی کشمیر کے حسن وخوبصورتی پر مرکوز ہوگئیں
اور اْس نے کشمیر پر دھاوا بول دیا۔یوسف شاہ اور اس کے بیٹے شہزادہ یعقوب شاہ
نے اپنی حریت پسندی کا زبردست مظاہرہ کرکے مغل افواج کو شکست فاش دی۔ کشمیر پر
قابض ہونے کے اپنے توسیع پسندانہ ارادے کو ایک عملی شکل دینے کی غرض سے اکبر نے
ایک بااصول او ربہادر بادشاہ ہونے کا ثبوت دینے کے بالکل برعکس ایک مکار اور
فریبی حکمران کا رول ادا کرتے ہوئے 1581ئ میں یوسف شاہ کو صلح جوئی کی
دعوت دے کر اپنے دربار میں بلایا اور بعد میں اْسے گرفتار کرکے بہار
کے صوبہ میں بسوک نامی ایک گائوں میں جلاوطن کرکے قید کرلیا جہاں
اپنے عزیز وطن اور ملکہ کی یاد میں ا?زاد اور خود مختار کشمیر کایہ ا?خری
فرماں روا 1586ئ میں ایک عالم بے بسی میں جاں بحق
ہوا۔
زمانہ کے ظالم ہاتھوں نے جب حبہ
خاتون کو اپنے محبوب سے جدا کیا تو ہجر وفراق کی تپتی بھٹی میں ان کے فن کا
سونا کندن بن کر نکلا اور انہوں نے اس عالم فراق میں جودرد بھرے گیت
اور پْرسوز نغمے تخلیق کئے وہ کشمیری شاعری کے سرمایہ میں ایک بیش بہا اور
بے مثال اضافہ ہے۔حبہ خاتون بھی جدائی کے اسی عالم میں 1605ئ میں باون
سال کی عمر پاکر خدا کوپیار ی ہوگئیں ۔ ان کے کلام کا یہ نمونہ ملاحظہ ہو :
دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں
لدے ہوئے پھولوں کے سبزہ زار
تو نے سْنی بھی میرے دل کی پکار
ڈوب گئیں پھولوں میں یکسر
میرے دیس کی جھیلیں اور کہسار
ا?ئو لوٹیں جلوہ? حسنِ بہار
جنگل جنگل چھایا ہوا ہے
بید مشک کی خوشبوو ں کا خمار
تو نے سْنی بھی میرے دل کی پکار
قدم قدم گلزار کھلائیں
ا?ئو میرے پھولوں کے رسیا
ا?ئو چلیں ہم چنیں چنبیلی
موت کے بعد ہے اللہ بیلی
راہ تکوں میں بیٹھ اکیلی
ا?ئو میرے پھولوں کے رسیا
ا?ئو چلیں باندھے گلدستے
کیوں روٹھے ہو ساجن ہم سے
دور دیس میں کیا سکھ لو گے
ا?ئو میرے پھولوں کے رسیا
ا?ئو چلیں ہم کاہو توڑیں
دنیا والے تہمت جوڑیں
لیکھ کی دھارا کیسے موڑیں
آئو میرے پھولوں کے رسیا
آئو چلیں ہم ندی کنارے
مست پڑے ہیں نیند کے مارے
بیٹھی ہوں سندیس سہارے
ا?ئو میرے پھولوں کے رسیا
حبہ خاتون کے کلام سے کشمیری سخن
گوئی میں پہلی بار گیت معرض وجود میں ا?یا ہے۔ رومان اور غنائیت کی ملکہ
حبہ چونکہ اپنی عمر کا بیشتر حصہ اپنے شوہر کی جدائی میں گذارنے پر مجبور ہوئی
تھیں لہٰذا اپنے محبوب کی یاد میں جونغمے انہوں نے تخلیق کئے اْن
میں نسوانی جذبات کابیان واظہار انتہائی پْرسوز انداز میں کیا گیا ہے۔بعد
میں ایک روایت بن کر کشمیری شاعری میں یہی رسم چل نکلی کہ گیتوں ،نغموں
اور رومانی شاعری میں تخاطب عورت کی طرف سے مرد کے نام ہوتا رہا اور
فراق کی ماری معشوقہ یعنی عورت ایک والہانہ پن کے ساتھ اپنے محسوسات بیان کرتی رہی۔
لل عارفہ اور شیخ عالم ? کے عہد کو
اگر کشمیری شاعری کا اولین دور اورحبہ خاتون کے دور کو دورِ ثانی کہاجائے تو
محمود گامی سے اس کا تیسرا دور شروع ہوجاتاہے۔
محمودگامی 1765ئ میں وادی? کشمیر
کے جنوب میں ایک خوبصورت علاقے شاہ ا?باد ڈورو میں پیدا ہوئے۔ ان کے
زمانے میں کشمیرکی مقامی زبان کسمپرسی کے عالم میں پڑی ہوئی تھی اور
اس کی جگہ ہندوستان میں مغل بادشاہوں کی سرپرستی کی وجہ سے فارسی نے
لے لی تھی۔ عام لوگ اگرچہ بول چال میں اپنی مادری زبان ہی استعمال کرتے تھے
مگر دربار کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے شعر ائ اور روسائ کے طبقے
نے فارسی علم وادب کا روزمرہ میں شامل کرلیا تھا۔ اسی طرح درسگاہوں میں
بھی فارسی کے کلاسیکی شہ پارے پنج گنج ،گلستان اوربوستان اور یوسف
زلیخاوغیرہ نصاب میں شامل تھے۔انہی ہمہ گیر اور غالب اثرات کے تحت کشمیری شاعروں
کو کشمیر ی میں منتقل کیا لیکن فارسی اور اْردو کی روایات کے برعکس کسی
ترجمے کے ا?غاز میں بادشاہِ وقت یا ان کے مقرر کردہ حکام کی تعریف وتوصیف
میں ایک مصرعہ بھی قلمبند نہیں کیا۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ کشمیری شعرائ
کو مغلوں کے وقت شاہی عنایات سے محروم ہی رکھا گیا۔
محمود گامی کو دنیا ئے سخن میں کشمیرکا
نظامی کہاجاتاہے۔ انہو ں نے سب سے پہلے کشمیرکی ادبی تاریخ میں مثنوی
کومتعارف کیا اور فارسی سے استفادہ کرتے ہوئے نظامی گنجوی اور مولانا عبدالرحمن
جامی کے شاہ پاروں کو اپنی زبان کا جامہ پہنایا۔محمود کی ان تمام مثنویات میں
''یوسف زلیخا'' کو سب سے زیادہ شہرہ اورقبول عام حاصل ہوا ہے۔ اس مثنوی کے اختتام
پر جو مرثیہ شاعر نے حضرت یوسف کی وفاد پر بی بی زلیخا کی زبان کہاہے اسے دنیائے
ادب کی اس صنف میں ٹامس گرے کی ممتاز Elegy کے ہم پلہ قرار دیاجاسکتاہے۔یوسف زلیخا کی مقبولیت کا اندازہ اس
امر سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ بعد میں جرمنی کے ایک عالم کارل برکہارڈ نے اپنی
زبان میں اس کا ترجمہ کرکے اس پر ایک تعارفی مضمون بھی لکھا جو 1895ئ
میں شائع ہوا۔
محمود گامی ایک پْرگو شاعر تھے۔مثنوی
کے علاوہ ان کے کلام میں غزلیات، گیت ،منظومات اورریختہ بھی شامل ہیں ۔بعد
میں محمود? کے ہی دیہات میں پیدا ہونے والے ایک اور غنائی شاعر اور ا ن کے
ہمعصر رسول میر شاہ ا?بادی نے کشمیری زبان میں غزل کو باقاعدہ ترویج دے کر
رومانیت کے نئے ا?ہنگ او راسلوب سے مالا مال کردیا۔
کشمیر کے مثنویاتی ادب میں مقبول
کرالہ واری کی ''گلریز'' نے جو نام پا یا وہ اپنی مثال ا?پ ہے۔ گلریز دراصل ضیائ
بخشی نے فارسی میں لکھی تھی۔ لیکن فارسی میں اسے وہ شہرت نصیب نہ ہوسکی
جو مقبول کے فنکارانہ تخیل کی بدولت اسے اسی طرح حاصل ہوئی جس طرح عمر خیام کی رباعیات
کو ایڈورڈفٹزجیرالڈ نے یورپ میں زبان زد خاص وعام کرلیا۔اس مثنوی میں مقبول
کی قوت تخیل اور فنی صلاحیتیں اس طرح سے نکھرا?ئی ہیں کہ گلریز کو کشمیری
میں ایک عظیم شعری کارنامہ سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔
کشمیری شاعری میں سب سے زیادہ
پْر گوئی ان فارسی مثنویات پر حامل ہے جن کے منظور تراجم کے ذریعہ کشمیر کے لوگ عجیب
وغریب اورپْراسرار کرداروں کے تانے بانے سے بنی ہوئی کہانیاں اور افسانے
سنا کرتے تھے۔ ان تراجم کو ادبی اصطلاح میں Adaptation کہنا زیادہ موزون رہے گا کیونکہ اکثر مثنویات میں جہاں
مترجم نے اصل کی روح کو قائم رکھنے کی بدرجہ اَتم کوشش کی ہے وہاں وہ
کئی مقامات پر حسب منشا یا اختصار کی غرض سے چھلانگیں لگاتا ہوا ا?گے بڑھ جاتاہے
اور اس طرح سے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی اس کی کوشش بہرحال سعی ناتمام
کے سوا اور کچھ نہیں رہ پاتی۔ اس کی ایک مثال ساٹھ ہزار اشعار پرمشتمل فردوسی
کا شاہنامہ ہے جسے کشمیر کے ایک شاعر وہاب حاجنی نے اصل کے ایک تہائی سے بھی کم اشعار
میں سمونے کی کوشش کی ہے۔(یو این این)
کشمیری ادب کا جائزہ۔۔۔۔۔۔٢
غلام نبی خیال
کشمیری مثنویات اگرچہ ایک طرف ہمارے
ادبی خزانے کا ایک قابل قدر سرمایہ کہلائی جاسکتی ہے وہاں دوسری جانب خالص
ادبی لحاظ سے یہ کشمیری زبان کی شاعرانہ خیال آرائی اور شاعری کی آفاقیت کے لئے کسی
خاص وجدان کا باعث نہیں بن سکی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے
مثنویاتی دور کے اکثر کشمیری شاعر خود فارسی زبان کے عاشق تھے لہٰذا انہوں نے
اپنے تراجم میں بھی فارسی تلمیحات ، اصطلاحات اور ترکیبوں کا بے محابا
استعمال کرکے ایک تصنع کا عالم پیدا کرلیاہے۔اس کے پیش نظر مقامی لوک داستانوں یعنی
''ہی مال ناگرائے'' کو ولی اللہ متو اور ''اکہ نندن'' کو رمضان بٹ ، احدزرگر اور
صمد میر نے زیادہ اثر آفرینی اور طبع آرائی کے ساتھ پیش کیاہے۔
غزل کشمیری شاعری کے ماتھے کا سب سے
چمکتا ہوا جھومرہے جس میں آب و تاب والے نگینے جوڑنے کا ا?غاز محمودگامی اور
رسول میر نے کیا۔ ان دونوں اساتذہ کے دور سے جب کشمیری غزل دور جدید میں داخل
ہوئی تو وہ فارسی کے گہرے اثرسے آزاد ہوکر غلام احمد مہجور او رعبدالاحد آزاد کے
ہاتھوں خالص کشمیری محاوروں اور استعاروں سے آراستہ ہونے لگی۔
جدید غزل کشمیری میں بالواسطہ
طور پر اْردو غزل سے وارد ہوئی ہے لہٰذا پہلے پہلے اس پر وہی موضوعات غالب رہے جن
پر جوش ملیح آباد ، فیض احمد فیض ، اسرارالحق مجاز ،ساحر لدھیانوی ، احمد ندیم
قاسمی ، مجروح سلطان پوری ، مخدوم محی الدین ، معین احسن جذبی ، سردار جعفری اور
غلام ربانی تاباں نے خامہ فرسائی کی تھی۔(یہاں جدید غزل سے ہماری مراد
1947ئ کے بعد کی کشمیری غزل ہے)۔ ترقی پسند تحریک کے معین کردہ ا?دب ولوازمات
نے غزل کے موضوع کا دائرہ اور بھی تنگ کردیا لیکن یہ مرحلہ بھی طے ہواتو کشمیری
غزل کے بعد میں حفیظ جالندھری ، عبدالحمید عدم، جگر مراد ا?بادی ،قتیل شفائی
اور فراق گورکھپوری کے ساتھ ساتھ غالب او راقبال کے اثرات قبول کئے اور اس طرح کشمیر
میں اس دوررنگی امتزاج کی بدولت رحمان راہی ?، امین کامل او رفاضل کشمیری
کی کئی خوبصورت غزلیات معرض وجود میں ا?ئیں ۔ دوسری طرف غزل گوئی کے اس بے
پناہ ذوق وشوق کے عالم میں کئی ایسے شعرائ مستقل طور پر روایت پرستی
کے محدود ماحول سے اپنے خیالات کو آزاد کرانے میں ناکام ہی رہے اور ان کی غزلیات
گنے چنے محاروں او راصطلاحوں کے دائرے میں قید ہوکر رہ گئیں ۔
ان میں محی الدین نواز، پیتا مبرناتھ فانی ،عبدالحمید سائر ، رسا جاودانی ،
دینا ناتھ المست، ارجن دیو مجبور اور غلام محمد مشتاق وغیرہ شامل ہیں ۔
کشمیری غزل کو اگرچہ غالب کی ہم سری
کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا لیکن تقابلی مطالعہ مقصود ہوتو یہ ضرور
کہاجاسکتاہے کہ یہ غزل اپنی معنوی برتری اور اظہار کی سربلندی کے لحاظ سے
ہندوستان کی کئی زبانوں کی غزلیات سے بہتر اور افضل قرار دی جاسکتی ہے جن میں
اْردو ، ہندی ،پنجابی اور سندھی کی جدید غزل کی مثالیں بھی شامل ہیں
۔
کشمیری شاعری میں تصوف نگاری کو
ایک عام کشمیری سخن فہم اور ''روحانیت'' کے طالب کی نظروں سے ا?ج بھی اس زبان
کی شاعرانہ صلاحیتوں کا ایک پْرسوز حصہ سمجھا جاتاہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ
ا?ج تک جدید زاویہ نگاہ اور نقطہ نظر سے اس شاعری کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے
کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس نام نہاد روحانیت کے صحیح
مطالب تلاش کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے۔وجہ صاف ظاہرہے کہ کشمیری نقادوں اور
سخن شناسوں نے بذات خود اس نوع کے تصوف کا کوئی مطالعہ نہیں کیاہے۔ چند
عربی ،فارسی اور سنسکرت کتابوں کے اقتباسات کو دوسروں کے ذریعہ اپنے
الفاظ کا جامہ پہنانا اور اس طرح سے کشمیری زبان کی صوفی شاعری پر مقالات تحریر کرنا
محض ایک ادبی مذاق ہوسکتاہے اور کچھ نہیں ۔کشمیر کی صوفی شاعری کے بارے میں مبہم
قسم کے شکوک وشبہات کو اس لحاظ سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ہمارے اکثر صوفی شاعر
مکمل طور پر ناخواندہ تھے مگر اس کے باوجود ان کی شاعری میں بظاہرا?مد کے نتیجے
میں کہیں کہیں عظیم شاعری کی جھلکیاں بھی نظر ا?تی ہیں جن
میں رحمان ڈار کے ''شش رنگ'' کو نمایاں طور پر پیش کیا جاسکتاہے۔
کیا ایک اَن پڑھ لوہار، کمہار،گلکار
یا مزدور کسی مطالعاتی تجربے کے بغیر دل کو چھولینے والی شاعری کرنے کا اہل
ہوسکتاہے اور کیا وہ اْن موضوعات کی شیرازہ بندی کرنے کے قابل بن سکتاہے جن کارشتہ
براہِ راست ایک خالص فلسفہ کے ساتھ بندااہواہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جواب بھی حل
طلب ہے اور جس کی گرہ کشائی اطمینان بخش حد تک کسی کشمیر نقاد کے ہاتھوں ا?ج
تک نہیں ہوسکی ہے۔ شاعری میں الہام یا ا?مد کو خارج از امکان قرارنہیں
دیا گیا ہے مگرشاعری میں ان خاص تلمیحات اور محاورات کا استعمال اس زبان
یا زبانوں کے بھر پور مطالعہ کے بغیر ناقابل فہم ہے جن کا تعلق ان کی
لسانی شیرازہ بندی کے ساتھ ہوسکتاہے۔
کشمیری نظم بھی اپنے ابتدائی دور
میں نعرہ بازی اور ہنگامی موضوعات کی تبلیغ تک ہی محدود رہی جس کی بنیادعبدالاحد
آزاد نے ڈالی۔آزاد کی منظومات میں شاعرانہ آہنگ کے برعکس شور وغوغا کا دھوم
ڈھڑاکا صحیح طور پر نظر آتاہے۔ یہ بات بلاتامل کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج آزاد?
زندہ ہوتے تووہ اپنی نظموں '' انقلابِ روس '' اور ''مارکسزم'' کوخود ہی ردکر
لیتے کیونکہ ان کی وفات کے بعد انقلابات اور ازموں کا تصور بہت حد تک معنوی
لحاظ سے تبدیل ہوتارہا۔ البتہ ان کی طویل نظم ''دریا'' اس قسم کے سارے نقائص اور
سطحیت سے بالاترہے۔
کشمیری زبان کی بہترین نظمیں 1955ئ
سے لے کر 1970ئ تک تخلیق کی گئیں ۔ یہ مختصر سا زمانہ کشمیر میں حقائق
کو پرکھنے اور سمجھنے اور سیاسی سازشوں کے پردے چاک ہونے کا زمانہ تھا۔
کشمیری ادب میں غلام احمد مہجورکو
نشا? الثانیہ کا نقیب کہاجاسکتاہے جنہوں نے کشمیر کے فکر وفن کو شعوو رآگہی
کی دولت سے مالا مال کردیا۔
مہجور نے 1885ئ میں ایک
ایسے نظام میں آنکھ کھولی جب کشمیر کی سرزمین جاگیرداری کے استحصال سے کراہ
رہی تھی اور صدیوں کی غلامی نے اہل کشمیر کو مجبوری اور مقہوری کی زنجیروں
میں جکڑ کے رکھ دیا تھا۔
مہجور? چونکہ پیشے کے لحاظ سے
پٹواری تھے اور انہیں اس وجہ سے وادی کشمیر کے دیہاتوں میں گھومنے
پھرنے کا بھرپور موقع ملاتھا۔ اسلئے ان کی منظومات میں کشمیر کے دل قریب نظاروں
، روپہلی ندیوں اور نالوں ،فلک بوس او ربرف پوش پہاڑوں اور
عطر بیز مرغ زاروں کی گونا گوں تصویر کشی نظر آتی ہے اس کے ساتھ ہی مہجور
نے اہل کشمیر کی غلامی کو بھی اپنی شاعری میں نمایاں طور پر آشکارا کیاہے۔
مہجورکے شاگرد اور ہم عصر عبدالاحد ا?زاد? نے مہجور? کے دل میں موجزن جذبات
کو بعد میں اپنے فن کی سب سے زوردار تحریک کی شکل میں نمایاں کیا۔
اپنی عوامی تخلیقات اور قوم پرستانہ منظومات کی بدولت مہجور? کو کشمیر کا قومی شاعرکہاجاتاہے
اور ان کا وہ نغمہ ا?ج بھی مقامی طور پرسیاسی ،سماجی اورثقافتی اجتماعات میں پیش
لفظ کی حیثیت رکھتاہے جس کا پہلا شعرہے:
چمن والے چمن میں اب نئی اک شان
پیدا کر
کھلیں گل ہوں فدا بلبل تو
وہ سامان پیدا کر
مہجور? کی منظومات کا بہت کم حصہ اْردو
اور دوسری زبانوں میں منتقل ہواہے لیکن جب دیویندر ستھیارتھی اور مرحوم
بلراج ساہنی نے تقریباً ساٹھ ستر سال قبل بنگال کے ''وشوا بھارتی '' رسالے میں ان
پر تعارفی مضمون قلمبند کئے اور ان میں مہجور? کے چند گیتوں کے انگریزی
تراجم بھی شامل کرلئے تو رابندر ناتھ ٹیگور نے یہ ترجمہ پڑھنے کے بعد کہا ''اگر مہجور?
بنگالی زبان سے واقف ہوتا تو میں ضرور کہتا کہ اْس نے میرے خیالات سے استفادہ
کیاہے۔''
عبدالاحد آزاد? بیک وقت اقبال اور
اشتراکی خیالات سے متاثر تھے لہٰذا اْن کے یہاں فلسفہ? خودی اور سماجی طبقات
کے کشمکش دونوں ساتھ ساتھ اْبھرے ہیں ۔آزاد ?نے اپنی عمر درس وتدریس میں گزاری
اور جوانی میں ہی بے کسی کے عالم میں 1948ئ میں خدا کو پیارے
ہوئے۔اپنی مختصر زندگی کے دوران ہی ا?زاد نے خاص طور پر کشمیری ادب میں نظم
کی صنف کو اپنی کئی بے مثال تخلیقات سے مالامال کیا۔ جن میں شکوہ ? ابلیس ،
دریا ، وتستا اور شکوہ کشمیر وغیرہ ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں ۔
1947ئ میں کشمیری ادیب اور
شاعر کلچر کانفرنس کے پرچم تلے پہلی بار ایک منظم صورت میں یکجا ہوگئے اور
انہی دنوں کشمیری ادب میں پہلی بار افسانہ اور ڈرامہ وجود میں آیا۔
اس ترقی پسند تحریک نے مرزا غلام حسن بیگ عارف ، دینا ناتھ نادم، نور محمد روشن ،
حبیب کامران ، سوم ناتھ زتشی ، اختر محی الدین ، رحمان راہی ، امین کامل ،غلام
نبی عارض، پیتامبرناتھ فانی ، غلام محمد ناز کولگامی اور فاضل کشمیری وغیرہ کو
کاروانِ ادب کے قافلہ سالاروں کا درجہ بخشا۔ بعد میں غلام بنی فراق ،
مظفر عازم ،چمن لال چمن ، مکھن لال بیکس، واسدیو ریہہ، اْمیش کول ،فاروق بڈگامی ،غلام
نبی خیال?، عبدالعزیزہارون، علی محمد لون، ہری کشن کول ، رتن لال شانت اور پشکر
بھان اپنے فن سے ہم عصر ادب کا دامن بھرتے رہتے۔
تنقید وتحقیق کے میدان میں رحمان
راہی ، غلام نبی فراق ،امین کامل ، غلام نبی خیال ، شفیع شوق، موتی لال ساقی ، بشیر
اختر ، ناظر کولگامی اور مشعل سلطان پوری اپنی کدوکاوش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس
وقت تقریباً چالیس کشمیری ادیبوں اور شاعروں کو ساہتیہ اکادمی کے انعام
سے نوازاگیا ہے۔
ریاستی کلچر اکادمی کی طرف سے بھی
ہرسال کشمیری زبان کی بہترین مطبوعات پر انعام دئے جانے کا سلسلہ چل
رہاہے۔کشمیری زبان میں تراجم کے لین دین کا عمل بھی کئی برسوں سے جاری
ہے جس کی بدولت رباعیات عمر خیام ،گوگول کی انسپکٹر جنرل ، گور کی کی ماں ،
الف لیلہٰ، زین العابدین کی پیامبر ،ابسن ک ڈرامے گھوسٹ اور وایلڈ ڈک ، ارسطو کی
بوطیقا ، ٹالسٹائی کی جنگ اور امن ،ڈاکٹر فاسٹس کا ایک منظر ، شیکسپیئر کی جولیس
سیر،مسدس حالی ،بابا فرید کا پنجابی کلام ، بال جبرئیل ، اسرار خودی ، دیوان
غالب ،ٹیگور کے ڈرامے چوکھیربالی ،ڈاک گھرا ور سایکل ا?ف سپرنگ ، مکتہ دھارا،
راجا اور روانی اور گل لالہ ، منظوماتِ اقبال اور غالب ، ٹینی سن ، کیٹس،ناظم
حکمت اور یوری پیڈیز کا یونانی المیہ میڈیا کشمیر میں منتقل ہوچکے ہیں ۔
کشمیری ادب میں جدیدیت کی نہج
کو کوئی واضح سمت نہیں مل سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیری ادب جن روایتی
اثرات کے سائے میں پروان چڑھاہے اْن کے مقرر کردہ اسالیب اور موضوعات کشمیری
ادیبوں اور شاعروں کے ذہن پر مکمل طور پر غالب وحاوی ہیں اور کشمیری
شاعری اب بھی کلاسیکی لہجے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس سبب سے رحمان راہی?مظفرعازم، چمن
لال چمن ، فراق ، روسل پونپراور دیناناتھ نادم اور کئی اور شعرا کا جدیدیت
کے رنگ میں رنگا ہوا کلام قاری کے دل ودماغ پر کوئی دیرپا تاثر قائم کرنے میں کامیاب
نہیں ہوسکا لیکن اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ کشمیری شاعر اور ادیب سائنس
اور ٹیکنالوجی کے اس تیزگام زمانے میں ہرآن بدلتے ہوئے ماحول اور اقدار کے
مدد و جزر سے آگاہ نہیں ہے۔ اس کے تحت الشعور پر وقت کی ہر کروٹ کے نشانات
ثبت ہوتے ہیں جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً فن کے مختلف النواع پیکروں کو
تراش کرکرتاہے اور بعض اوقات یہ تصویر کشی جاذب نظر اور دیدہ زیب بھی بن جاتی ہے۔(یو
این این)
غلام نبی خیال
کشمیری مثنویات اگرچہ ایک طرف ہمارے ادبی خزانے کا ایک قابل قدر سرمایہ کہلائی جاسکتی ہے وہاں دوسری جانب خالص ادبی لحاظ سے یہ کشمیری زبان کی شاعرانہ خیال آرائی اور شاعری کی آفاقیت کے لئے کسی خاص وجدان کا باعث نہیں بن سکی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مثنویاتی دور کے اکثر کشمیری شاعر خود فارسی زبان کے عاشق تھے لہٰذا انہوں نے اپنے تراجم میں بھی فارسی تلمیحات ، اصطلاحات اور ترکیبوں کا بے محابا استعمال کرکے ایک تصنع کا عالم پیدا کرلیاہے ۔اس کے پیش نظر مقامی لوک داستانوں یعنی ’’ہی مال ناگرائے‘‘ کو ولی اللہ متو اور ’’اکہ نندن‘‘ کو رمضان بٹ ، احدزرگر اور صمد میر نے زیادہ اثر آفرینی اور طبع آرائی کے ساتھ پیش کیاہے ۔
غزل کشمیری شاعری کے ماتھے کا سب سے چمکتا ہوا جھومرہے جس میں آب و تاب والے نگینے جوڑنے کا آغاز محمودگامی اور رسول میر نے کیا ۔ ان دونوں اساتذہ کے دور سے جب کشمیری غزل دور جدید میں داخل ہوئی تو وہ فارسی کے گہرے اثرسے آزاد ہوکر غلام احمد مہجور او رعبدالاحد آزاد کے ہاتھوں خالص کشمیری محاوروں اور استعاروں سے آراستہ ہونے لگی ۔
جدید غزل کشمیری میں بالواسطہ طور پر اُردو غزل سے وارد ہوئی ہے لہٰذا پہلے پہلے اس پر وہی موضوعات غالب رہے جن پر جوش ملیح آباد ، فیض احمد فیضؔ، اسرارالحق مجاز ،ساحر لدھیانوی ، احمد ندیم قاسمی ، مجروح سلطان پوری ، مخدوم محی الدین ، معین احسن جذبی ، سردار جعفری اور غلام ربانی تاباں نے خامہ فرسائی کی تھی ۔(یہاں جدید غزل سے ہماری مراد 1947ء کے بعد کی کشمیری غزل ہے)۔ ترقی پسند تحریک کے معین کردہ آدب ولوازمات نے غزل کے موضوع کا دائرہ اور بھی تنگ کردیا لیکن یہ مرحلہ بھی طے ہواتو کشمیری غزل کے بعد میں حفیظ جالندھری ، عبدالحمید عدم، جگر مراد آبادی ،قتیل شفائی اور فراق گورکھپوری کے ساتھ ساتھ غالب او راقبال کے اثرات قبول کئے اور اس طرح کشمیر میں اس دوررنگی امتزاج کی بدولت رحمان راہی ؔ، امین کامل او رفاضل کشمیری کی کئی خوبصورت غزلیات معرض وجود میں آئیں ۔ دوسری طرف غزل گوئی کے اس بے پناہ ذوق وشوق کے عالم میں کئی ایسے شعراء مستقل طور پر روایت پرستی کے محدود ماحول سے اپنے خیالات کو آزاد کرانے میں ناکام ہی رہے اور ان کی غزلیات گنے چنے محاروں او راصطلاحوں کے دائرے میں قید ہوکر رہ گئیں ۔ ان میں محی الدین نواز، پیتا مبرناتھ فانی ،عبدالحمید سائر ، رسا جاودانی ، دینا ناتھ المست، ارجن دیو مجبور اور غلام محمد مشتاق وغیرہ شامل ہیں ۔
کشمیری غزل کو اگرچہ غالب کی ہم سری کا دعویٰ کرنے کا حق نہیںدیا جاسکتا لیکن تقابلی مطالعہ مقصود ہوتو یہ ضرور کہاجاسکتاہے کہ یہ غزل اپنی معنوی برتری اور اظہار کی سربلندی کے لحاظ سے ہندوستان کی کئی زبانوں کی غزلیات سے بہتر اور افضل قرار دی جاسکتی ہے جن میں اُردو ، ہندی ،پنجابی اور سندھی کی جدید غزل کی مثالیں بھی شامل ہیں ۔
کشمیری شاعری میں تصوف نگاری کو ایک عام کشمیری سخن فہم اور ’’روحانیت‘‘ کے طالب کی نظروں سے آج بھی اس زبان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا ایک پُرسوز حصہ سمجھا جاتاہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک جدید زاویہ نگاہ اور نقطہ نظر سے اس شاعری کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس نام نہاد روحانیت کے صحیح مطالب تلاش کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے ۔وجہ صاف ظاہرہے کہ کشمیری نقادوں اور سخن شناسوں نے بذات خود اس نوع کے تصوف کا کوئی مطالعہ نہیں کیاہے ۔ چند عربی ،فارسی اور سنسکرت کتابوں کے اقتباسات کو دوسروں کے ذریعہ اپنے الفاظ کا جامہ پہنانا اور اس طرح سے کشمیری زبان کی صوفی شاعری پر مقالات تحریر کرنا محض ایک ادبی مذاق ہوسکتاہے اور کچھ نہیں ۔کشمیر کی صوفی شاعری کے بارے میں مبہم قسم کے شکوک وشبہات کو اس لحاظ سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ہمارے اکثر صوفی شاعر مکمل طور پر ناخواندہ تھے مگر اس کے باوجود ان کی شاعری میں بظاہرآمد کے نتیجے میں کہیں کہیں عظیم شاعری کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں جن میں رحمان ڈار کے ’’شش رنگ‘‘ کو نمایاں طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔
کیا ایک اَن پڑھ لوہار، کمہار،گلکار یا مزدور کسی مطالعاتی تجربے کے بغیر دل کو چھولینے والی شاعری کرنے کا اہل ہوسکتاہے اور کیا وہ اُن موضوعات کی شیرازہ بندی کرنے کے قابل بن سکتاہے جن کارشتہ براہِ راست ایک خالص فلسفہ کے ساتھ بندااہواہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جواب بھی حل طلب ہے اور جس کی گرہ کشائی اطمینان بخش حد تک کسی کشمیر نقاد کے ہاتھوں آج تک نہیں ہوسکی ہے ۔ شاعری میں الہام یا آمد کو خارج از امکان قرارنہیں دیا گیا ہے مگرشاعری میں ان خاص تلمیحات اور محاورات کا استعمال اس زبان یا زبانوں کے بھر پور مطالعہ کے بغیر ناقابل فہم ہے جن کا تعلق ان کی لسانی شیرازہ بندی کے ساتھ ہوسکتاہے ۔
کشمیری نظم بھی اپنے ابتدائی دور میں نعرہ بازی اور ہنگامی موضوعات کی تبلیغ تک ہی محدود رہی جس کی بنیادعبدالاحد آزاد نے ڈالی ۔آزاد کی منظومات میں شاعرانہ آہنگ کے برعکس شور وغوغا کا دھوم ڈھڑاکا صحیح طور پر نظر آتاہے ۔ یہ بات بلاتامل کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج آزادؔ زندہ ہوتے تووہ اپنی نظموں ’’ انقلابِ روس ‘‘ اور ’’مارکسزم‘‘ کوخود ہی ردکر لیتے کیونکہ ان کی وفات کے بعد انقلابات اور ازموں کا تصور بہت حد تک معنوی لحاظ سے تبدیل ہوتارہا۔ البتہ ان کی طویل نظم ’’دریا‘‘ اس قسم کے سارے نقائص اور سطحیت سے بالاترہے ۔
کشمیری زبان کی بہترین نظمیں 1955ء سے لے کر 1970ء تک تخلیق کی گئیں ۔ یہ مختصر سا زمانہ کشمیر میں حقائق کو پرکھنے اور سمجھنے اور سیاسی سازشوں کے پردے چاک ہونے کا زمانہ تھا۔
کشمیری ادب میں غلام احمد مہجورکو نشاۃ الثانیہ کا نقیب کہاجاسکتاہے جنہوں نے کشمیر کے فکر وفن کو شعور او رآگہی کی دولت سے مالا مال کردیا۔
مہجور نے 1885ء میں ایک ایسے نظام میں آنکھ کھولی جب کشمیر کی سرزمین جاگیرداری کے استحصال سے کراہ رہی تھی اور صدیوں کی غلامی نے اہل کشمیر کو مجبوری اور مقہوری کی زنجیروں میں جکڑ کے رکھ دیا تھا۔
مہجورؔ چونکہ پیشے کے لحاظ سے پٹواری تھے اور انہیں اس وجہ سے وادیٔ کشمیر کے دیہاتوں میں گھومنے پھرنے کا بھرپور موقع ملاتھا ۔ اسلئے ان کی منظومات میں کشمیر کے دل قریب نظاروں ، روپہلی ندیوں اور نالوں ،فلک بوس او ربرف پوش پہاڑوں اور عطر بیز مرغ زاروں کی گونا گوں تصویر کشی نظر آتی ہے اس کے ساتھ ہی مہجورؔ نے اہل کشمیر کی غلامی کو بھی اپنی شاعری میں نمایاں طور پر آشکارا کیاہے ۔ مہجورؔ کے شاگرد اور ہم عصر عبدالاحد آزادؔ نے مہجورؔ کے دل میں موجزن جذبات کو بعد میں اپنے فن کی سب سے زوردار تحریک کی شکل میں نمایاں کیا۔ اپنی عوامی تخلیقات اور قوم پرستانہ منظومات کی بدولت مہجورؔ کو کشمیر کا قومی شاعرکہاجاتاہے اور ان کا وہ نغمہ آج بھی مقامی طور پرسیاسی ،سماجی اورثقافتی اجتماعات میں پیش لفظ کی حیثیت رکھتاہے جس کا پہلا شعرہے:
چمن والے چمن میں اب نئی اک شان پیدا کر
کھلیں گل ہوں فدا بلبل تو وہ سامان پیدا کر
مہجورؔ کی منظومات کا بہت کم حصہ اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل ہواہے لیکن جب دیویندر ستھیارتھی اور مرحوم بلراج ساہنی نے تقریباً ساٹھ ستر سال قبل بنگال کے ’’وشوا بھارتی ‘‘ رسالے میں ان پر تعارفی مضمون قلمبند کئے اور ان میں مہجورؔ کے چند گیتوں کے انگریزی تراجم بھی شامل کرلئے تو رابندر ناتھ ٹیگور نے یہ ترجمہ پڑھنے کے بعد کہا ’’اگر مہجورؔ بنگالی زبان سے واقف ہوتا تو میں ضرور کہتا کہ اُس نے میرے خیالات سے استفادہ کیاہے ۔‘‘
عبدالاحد آزادؔ بیک وقت اقبال اور اشتراکی خیالات سے متاثر تھے لہٰذا اُن کے یہاں فلسفۂ خودی اور سماجی طبقات کے کشمکش دونوں ساتھ ساتھ اُبھرے ہیں۔آزاد ؔنے اپنی عمر درس وتدریس میں گزاری اور جوانی میں ہی بے کسی کے عالم میں 1948ء میں خدا کو پیارے ہوئے ۔اپنی مختصر زندگی کے دوران ہی آزاد نے خاص طور پر کشمیری ادب میں نظم کی صنف کو اپنی کئی بے مثال تخلیقات سے مالامال کیا۔ جن میں شکوہ ٔ ابلیس ، دریا ، وتستا اور شکوہ کشمیر وغیرہ ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں ۔
1947ء میں کشمیری ادیب اور شاعر کلچر کانفرنس کے پرچم تلے پہلی بار ایک منظم صورت میں یکجا ہوگئے اور انہی دنوں کشمیری ادب میں پہلی بار افسانہ اور ڈرامہ وجود میں آیا۔ اس ترقی پسند تحریک نے مرزا غلام حسن بیگ عارف ، دینا ناتھ نادم، نور محمد روشن ، حبیب کامران ، سوم ناتھ زتشی ، اختر محی الدین ، رحمان راہی ، امین کامل ،غلام نبی عارض، پیتامبرناتھ فانی ، غلام محمد ناز کولگامی اور فاضل کشمیری وغیرہ کو کاروانِ ادب کے قافلہ سالاروں کا درجہ بخشا۔ بعد میں غلام بنی فراق ، مظفر عازم ،چمن لال چمن ، مکھن لال بیکس، واسدیو ریہہ، اُمیش کول ،فاروق بڈگامی ،غلام نبی خیالؔ، عبدالعزیزہارون، علی محمد لون، ہری کشن کول ، رتن لال شانت اور پشکر بھان اپنے فن سے ہم عصر ادب کا دامن بھرتے رہتے ۔
تنقید وتحقیق کے میدان میں رحمان راہی ، غلام نبی فراق ،امین کامل ، غلام نبی خیال ، شفیع شوق، موتی لال ساقی ، بشیر اختر ، ناظر کولگامی اور مشعل سلطان پوری اپنی کدوکاوش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس وقت تقریباً چالیس کشمیری ادیبوں اور شاعروں کو ساہتیہ اکادمی کے انعام سے نوازاگیا ہے ۔
ریاستی کلچر اکادمی کی طرف سے بھی ہرسال کشمیری زبان کی بہترین مطبوعات پر انعام دئے جانے کا سلسلہ چل رہاہے۔کشمیری زبان میں تراجم کے لین دین کا عمل بھی کئی برسوں سے جاری ہے جس کی بدولت رباعیات عمر خیام ،گوگول کی انسپکٹر جنرل ، گور کی کی ماں ، الف لیلہٰ، زین العابدین کی پیامبر ،ابسن ک ڈرامے گھوسٹ اور وایلڈ ڈک ، ارسطو کی بوطیقا ، ٹالسٹائی کی جنگ اور امن ،ڈاکٹر فاسٹس کا ایک منظر ، شیکسپیئر کی جولیس سیر،مسدس حالی ،بابا فرید کا پنجابی کلام ، بال جبرئیل ، اسرار خودی ، دیوان غالب ،ٹیگور کے ڈرامے چوکھیربالی ،ڈاک گھرا ور سایکل آف سپرنگ ، مکتہ دھارا، راجا اور روانی اور گل لالہ ، منظوماتِ اقبال اور غالب ، ٹینی سن ، کیٹس،ناظم حکمت اور یوری پیڈیز کا یونانی المیہ میڈیا کشمیر میں منتقل ہوچکے ہیں۔
کشمیری ادب میں جدیدیت کی نہج کو کوئی واضح سمت نہیں مل سکی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیری ادب جن روایتی اثرات کے سائے میں پروان چڑھاہے اُن کے مقرر کردہ اسالیب اور موضوعات کشمیری ادیبوں اور شاعروں کے ذہن پر مکمل طور پر غالب وحاوی ہیں اور کشمیری شاعری اب بھی کلاسیکی لہجے کو ترجیح دیتی ہے ۔ اس سبب سے رحمان راہیؔمظفرعازم، چمن لال چمن ، فراق ، روسل پونپراور دیناناتھ نادمؔ اور کئی اور شعرا کا جدیدیت کے رنگ میںرنگا ہوا کلام قاری کے دل ودماغ پر کوئی دیرپا تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا لیکن اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ کشمیری شاعر اور ادیب سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس تیزگام زمانے میں ہرآن بدلتے ہوئے ماحول اور اقدار کے مدد و جزر سے آگاہ نہیں ہے ۔ اس کے تحت الشعور پر وقت کی ہر کروٹ کے نشانات ثبت ہوتے ہیں جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً فن کے مختلف النواع پیکروں کو تراش کرکرتاہے اور بعض اوقات یہ تصویر کشی جاذب نظر اور دیدہ زیب بھی بن جاتی ہے ۔
کشمیری ادب گزشتہ چھ صدیوں کے دوران زندگی کی ہردھڑکن کو محسوس کرتارہاہے اور ان دھڑکنوں اور محسوسات اور تجربات کا ردعمل ساری دنیا کے ادبی اظہار کی طرح ہوتارہاہے اور ہوتارہے گا ۔
l------------------ ختم شد ----------------l
رابطہ:-15-راول پورہ ہائوسنگ کالونی ،سرینگر(کشمیر)
موبائل نمبر:-9419005909
Email: gulkhayal@gmail.com
|
بلاگ کا کھوجی
آمدو رفت
28,048
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں




کشمیری زبان و ادب


0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔